Showing posts with label رؤف خلش. Show all posts
Showing posts with label رؤف خلش. Show all posts

Thursday, November 27, 2014

رؤف خلش


سلسلے یہ کیسے ہیں ٹوٹ کر نہیں ملتے
جو بچھڑ گئے لمحے ، عمر بھر نہیں ملتے

شور کرتے رہتے ہیں ، جسم و جاں کے سناٹے
جب طویل راہوں میں ، ہم سفر نہیں ملتے

دھوپ کی تمازت سے ، جو بچاؤ کر پاتے
سورجوں کے شہروں میں ، وہ شجر نہیں ملتے

چاہتوں بھرے کمرے ، دل کھلے ، کھلا آنگن
اب تو ڈھونڈنے پر بھی، ایسے گھر نہیں ملتے

سب نے ہر ضرورت سے ، کر رکھا ہے سمجھوتا
لوگ ملتے رہتے ہیں ، دل مگر نہیں ملتے

وقت نے تو بستی کی ، شکل ہی بدل دی ہے
جن پہ رونقیں تھیں وہ ، بام و در نہیں ملتے

اپنے نفع و نقصان کا ، سب حساب رکھتے ہیں
ہم سے ملنے والے بھی ، بےخبر نہیں ملتے

ان دنوں خلش اکثر ، منظروں کے وہ تیور
اجنبی دیاروں کی ، خاک پر نہیں ملتے