Showing posts with label احمد فراز. Show all posts
Showing posts with label احمد فراز. Show all posts

Friday, October 26, 2018

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں



اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں 

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں 


ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی 

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں 


غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو 

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں 


تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا 

دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں 


آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر 

کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں 


اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ 

جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں

Wednesday, January 31, 2018

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو


ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو
کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو 

وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر
وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو
چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورت
پکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو
تجھے تراش کے میں سخت منفعل ہوں کہ لوگ
تجھے صنم تو سمجھنے لگے خدا مجھ کو
یہ اور بات کہ اکثر دمک اٹھا چہرہ
کبھی کبھی یہی شعلہ بجھا گیا مجھ کو
یہ قربتیں ہی تو وجہ فراق ٹھہری ہیں
بہت عزیز ہیں یاران بے وفا مجھ کو
ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں
وہ ایک شخص کہ شاعر بنا گیا مجھ کو
اسے فرازؔ اگر دکھ نہ تھا بچھڑنے کا
تو کیوں وہ دور تلک دیکھتا رہا مجھ کو

احمد فراز

Tuesday, January 30, 2018

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی


سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی


اہلِ محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پُرسش نہیں کی


جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی


یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی


اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی


ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی


اے مرے ابرِ کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی


کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتلِ شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی


وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

احمد فرازؔ

Wednesday, November 12, 2014

احمد فراز



عشق بس ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے ، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے ، یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے ، نہ بروں ہے ، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے ، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے ، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے ، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے ، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے ، یوں ہے





زندگی یُوں تھی کہ جینے کا بہانہ تُو تھا

ہم فقط زیبِ حکایت تھے، فسانہ تُو تھا

ہم نے جس جس کو بھی چاہا ترے ہجراں میں، وہ لوگ
آتے جاتے ہوئے موسم تھے، زمانہ تُو تھا

اب کے کچھ دل ہی نہ مانا کہ پلٹ کر آتے
ورنہ ہم دربدروں کا تو ٹھکانہ تُو تھا

یار و اغیار کے ہاتھوں میں کمانیں تھیں فرازؔ
اور سب دیکھ رہے تھے کہ نشانہ تُو تھا





میں کہ پرشور سمندر تھے میرے پاؤں میں

اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں

نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں

دن کے ڈھلتے ہی اجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں

چاکِ دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں

ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں۔۔!!

احمد فراز




سنا ھے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ھیں 

تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ھیں 

سنا ھے ربط ھے اس کو خراب حالوں سے 
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ھیں 

سنا ھے درد کی گاہک ھے چشمِ ناز اس کی 
سو ھم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ھیں 

سنا ھے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ھم بھی معجزے اپنے ھنر کے دیکھتے ھیں

سنا ھے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ھیں
یہ بات ھے تو چلو بات کر کے دیکھتے ھیں

سنا ھے رات اسے چاند تکتا رھتا ھے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ھیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں

سنا ھے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ھے اس کو ھرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ھے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
سنا ھے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ھیں

سنا ھے اس کی سیہ چشمگی قیامت ھے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ھیں

سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں

سنا ھے اس کے بدن کی تراش ایسی ھے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ھیں

سنا ھے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ھیں
سو ھم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ھیں

سنا ھے آئینہ تمثال ھے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ھیں

بس اک نگاہ سے لٹتا ھے قافلہ دل کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ھیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ھیں

بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ھیں

سنا ھے اس کے شبستاں سے متصل ھے بہشت
مکیں‌ ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ھیں

کسے نصیب کے بے پیرھن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ھیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ھیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ھیں

کہانیاں ھی سہی ، سب مبالغے ھی سہی
اگر وہ خواب ھے تعبیر کر کے دیکھتے ھیں

اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ھیں‌‌.






اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری

وہ قیامت ہی غنیمت تھی جو یکجا گزری

آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن
اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری

میں تو صحرا کی تپش، تشنہ لبی بھول گیا
جو مرے ہم نفسوں پر لب ِدریا گزری

آج کیا دیکھ کے بھر آئی ہیں تیری آنکھیں
ہم پہ اے دوست یہ ساعت تو ہمیشہ گزری

میری تنہا سفری میرا مقدر تھی فراز
ورنہ اس شہر ِتمنا سے تو دنیا گزری






اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہی انساں جاناں


اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرا تھا گلستاں جاناں

آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں

مدتوں سے یہی عالم، نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں

ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں

جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخلِ زنداں جاناں

اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں

ہم کہ روٹھی ہوئی رُت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسمِ ہجراں جاناں

ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہوئے اوراقِ پریشاں جاناں
(جنابِ احمد فراز)