Saturday, February 28, 2015

فرزانہ خان نیناںؔ


چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چھپ کے یوں اداسی میں کس کو سوچتی ہو تم
بار بار چوڑی کے سُر کسے سناتی ہو
شور سے صدا کس کی توڑ توڑلاتی ہو
بزم میں بہاروں کی کھوئی کھوئی لگتی ہو
دوستوں کے مجمع میں کیوں اکیلی رہتی ہو
موج موج بہتی ہوآنسوؤں میں رہتی ہو
جھالروں سے پلکوں کی ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہو
بلبلے کی صورت میں پھوٹ پھوٹ جاتی ہو
دھند سے لپٹ کر کیوں سونی راہ تکتی ہو
کھڑکیوں سے برکھا کودیکھ کر بلکتی ہو
سارے سپنے آنکھوں سے ایک بار بہنے دو
رات کی ابھاگن کو تارہ تارہ گہنے دو
ماضی، حال ،مستقبل،کچھ تو کورا رہنے دو
پُل کے نیچے بہنے دو آنسوؤں کی یہ ندیاں
وقت چلتا جائے گا بیت جائیں گی صدیاں
بے حسوں کی بستی میں بے حسی کو رہنے دو
دل تو پورا پاگل ہے اس کو پورا رہنے دو
یہ جو کہتا رہتا ہے اس کو بھی وہ کہنے دو
اس کو کورا رہنے دو
تم یہ کورا رہنے دو۔۔۔!!!

اجملؔ سراج

سو طرح کے غم اور ترے ہجر کا غم بھی
کیا زندگی کرنے کے لئے آئے ہیں ہم بھی

ہاں اس کا تقاضہ تو فقظ ایک قدم تھا
افسوس بڑھا پائے نہ ہم ایک قدم بھی

اک رنجِ تعلق ہے کہ جتنا ہے بہت ہے
اک درد محبت جو زیادہ بھی ہے کم بھی

یہ ذکر ہے جس شہر کا ا ب کس کو بتائیں
کچھ وقت گزار آئے ہیں اس شہر میں ہم بھی

اس روز جب اس شہر میں اک جشن بپا تھا
ہم نے تو سنا ہے کہ کوئی آنکھ تھی نم بھی

اجملؔ سراج

Thursday, February 12, 2015

رئیس امرہوی

کس کا جمالِ ناز ہے جلوہ نما سو بہ سو
گوشہ بگوشہ در بدر قریہ بہ قریہ کو بہ کو

اشک فشاں ہے کس لئے دیدۂ منتظر میرا
دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جو بجو

میری نگاہِ شوق میں حسن ازل ہے بے حجاب
غنچہ بہ غنچہ گل بہ گل لالہ بہ لالہ بو بہ بو

جلوہ عارض نبی رشک جمال یوسفی
سینہ بہ سینہ سر بہ سر چہرہ بہ چہرہ ہو بہ ہو

زلف دراز مصطفی گیسوئے لیل حق نما
طرہ بہ طرہ خم بہ خم حلقہ بہ حلقہ مو بہ مو

یہ میرا اضطراب شوق رشک جنون قیس ہے
جذبہ بہ جذبہ دل بہ دل شیوہ بہ شیوہ خو بہ خو

تیرا تصور جمال میرا شریک حال ہے
نالہ بہ نالہ غم بہ غم نعرہ بہ نعرہ ہو بہ ہو

بزم جہاں میں یاد ہے آج بھی ہر طرف تیری
قصہ بہ قصہ لب بہ لب خطبہ بہ خطبہ رو بہ رو

کاش ہو ان کا سامنا عین حریم ناز میں
چہرہ بہ چہرہ رخ بہ رخ دیدہ بہ دیدہ دوبہ دو

عالم شوق میں رئیس کس کی مجھے تلاش ہے
خطہ بہ خطہ راہ بہ راہ جادہ بہ جادہ سو بہ سو

رئیس امرہوی

مسعود قاضی

ٹوکتے ھیں ھمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھڑے ھوکر
طِفل کیا ھوگئے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ بڑے ھوکر

اپنی وقعت ۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرسکیں گے بحال
اب تو ھم ۔۔۔۔ موتیوں جڑے ھوکر

وقت ۔۔۔ مرنے تلک گزارنا ھے !!
ایک کونے میں اب پڑے ھوکر

اُمٌت ِ واحدہ کہیں کس کو ؟؟
بٹ گئ ھے جو ۔۔۔سو دھڑے ھوکر !!

دیکھ لو عازمین ِ جنت کو
پھٹ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لوتھڑے ھوکر

بات سچٌی جہاں کہے مسعود
مُونھ لٹک جایئں ۔۔۔۔۔ تھوبڑے ھوکر

مسعود قاضی

Monday, February 2, 2015

راحت اندوری

لوگ ھر موڑ پہ رُک رُک کے سنبھلتے کیوں ھیں
اتنا ڈرتے ھیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ھیں

میں نہ جگنوھوں، دیا ھوں نہ کوئی تارا ھوں
روشنی والے میرے نام سے جلتے کیوں ھیں

نیند سے میرا تعلق ھی نہیں برسوں سے
خواب آ آ کے مری چھت پہ ٹہلتے کیوں ھیں

موڑ ھوتا ھے جوانی کا سنبھلنے کے لیئے
اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ھیں

میکدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے
خالی شیشوں کی طرح لوگ اُچھلتے کیوں ھیں

راحت اندوری

عرفان صدیقی


بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
تجھی پہ ختم ہے جاناں، مرے زوال کی رات
تو اب طلوع بھی ہو جا کہ ڈھل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی


شعلہٴ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے
وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے

اس کو منظور نہیں ہے مری گمراہی بھی
اور مجھے راہ پہ لانا بھی نہیں چاہتا ہے

میرے لفظوں میں بھی چھپتا نہیں پیکر اس کا
دل مگر نام بتانا بھی نہیں چاہتا ہے

عرفان صدیقی




تیرے تن کے بہت رنگ ہیں جانِ من، اور نہاں دل کے نیرنگ خانوں میں ہیں
لامسہ، شامہ و ذائقہ، سامعہ، باصرہ، سب مرے رازدانوں میں ہیں

اور کچھ دامنِ دل کشادہ کرو، دوستو شکرِ نعمت زیادہ کرو
پیڑ، دریا، ہوا، روشنی، عورتیں، خوشبوئیں، سب خدا کے خزانوں میں ہیں

ناقہٴ حسن کی ہم رکابی کہاں، خیمہٴ ناز میں بازیابی کہاں
ہم تو اے بانوئے کشورِ دلبری پاس داروں میں ہیں، ساربانوں میں ہیں

میرے اندر بھی ہے ایک شہرِ دگر، میرے مہتاب، ایک رات ادھر سے گزر
کیسے کیسے چراغ ان دریچوں میں ہیں، کیسے کیسے قمران مکانوں میں ہیں

اک ستارہ ادا نے یہ کیا کر دیا، میری مٹی سے مجھ کو جدا کر دیا
ان دنوں پاؤں میرے زمین پر نہیں، اب مری منزلیں آسمانوں میں ہیں


عرفان صدیقی

Sunday, February 1, 2015

احمد سلمان


ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کا عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے


وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہی درختوں سے اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے

اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے

وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیت
پھر ایک چنبیلی کی اوٹ میں سے جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے


وہ گاؤں کا اک ضعیف دھقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب اس کے بچے جو شہر جا کر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے

Saturday, January 31, 2015

سراج اورنگ آبادی

گلشنِ عالم میں آسائش نہیں
یہاں گلِ عشرت کی پیدائش نہیں


صاف دل کوں ہے نمد پوشی سیں کام
آرسی کوں ذوقِ آرائش نہیں

کیوں نہ تجھ قد کوں کہوں سرو سہی
راست ہے کچھ اس میں بالائش نہیں

رحم کر تقصیر میری کر معاف
کیا گنہہ گاروں کو بخشایش نہیں

دل میں رہتا ہے خیال اُس یار کا
غیر کوں اِس گھر میں گنجائش نہیں


کون سا دم ہے کہ جاناں بن سراج
شوق کے شعلوں کوں افزائش نہیں

منظر بھوپالی

ان کو آنسو بھی جو مل جائیں تو مسکاتی ہیں
بٹیاں تو بڑی معصوم ہیں جذباتی ہیں


اپنی خدمت سے اُتر جاتی ہیں دل میں سب کے
ہر نئی نسل کو تہذیب یہ سکھلاتی ہیں

ان سے قائم ہے تقدس بھی ہمارے گھر کا
صبح کو اپنی نمازوں سے یہ مہکاتی ہیں

لوگ بیٹوں سے ہی رکھتے ہیں توقع لیکن
بٹیاں اپنی برے وقت میں کام آتی ہیں

بٹیاں ہوتی ہیں پُرنور چراغوں کی طرح
روشنی کرتی ہیں جس گھر میں چلی جاتی ہیں

اپنی سسرال کا ہر زخم چھپا لیتی ہیں
سامنے ماں کے جب آتی ہیں تو مسکاتی ہیں

بٹیوں کی ہے زمانے میں انوکھی خوشبو
یہ وہ کلیاں ہیں جو صحرا کو بھی مہکاتی ہیں

ایک بیٹی ہو تو کھل اُٹھتا ہے گھر کا آنگن 
گھر وہی ہوتا ہے پر رونقیں بڑھ جاتی ہیں

فاطمہ زہرا کی تعظیم کو اُٹھتے تھے رسول
محترم بٹیاں اس واسطے کہلاتی ہیں


اپنے بابا کے کلیجے سے لپٹ کر منظر
زندگی جینے کا احساس دلا جاتی ہیں

رحمان فارس


اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ھوگا ھی

یہ رازِ بوسۂ لب ھے، عیاں تو ھوگا ھی !!




تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں ؟؟؟
دِلوں میں آگ لگی ھے ، دھواں تو ھوگا ھی
بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
یہاں تُو ھو نہ ھو میرا ، وھاں تو ھوگا ھی
یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے ؟؟
کہ کاروبارِ جنُوں میں زیاں تو ھو گا ھی
ھم اس اُمید پہ نکلے ھیں جھیل کی جانب
کہ چاند ھو نہ ھو ، آبِ رواں تو ھوگا ھی
مَیں کُڑھتا رھتا ھوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس
فُلاں بھی بیٹھا ھو شاید ، فُلاں تو ھوگا ھی !
یہ بات مدرسۂ دل میں کھینچ لائی مجھے
کہ درس ھو کہ نہ ھو ، امتحاں تو ھو گا ھی
مگر وہ پھول کے مانند ھلکی پُھلکی ھے !!!
سو اُس پہ عشق کا پتھر گراں تو ھو گا ھی
غزل کے روپ میں چمکے کہ آنکھ سے چھلکے
یہ اندرونے کا دکھ ھے ، بیاں تو ھوگا ھی




بڑی اُمیدیں لگا بیٹھے تھے سو اب فارس !
ملالِ بے رخئ دوستاں تو ھو گا ھی


کیفیؔ اعظمی


تُم اِتنا جو مُسکرا رہے ہو
کيا غم ہے جِس کو چُھپا رہے ہو

آنکھوں ميں نمی، ہنسی لبوں پر
کيا حال ہے، کيا دِکھا رہے ہو
بن جائيں گے زہر پيتے پيتے
يہ اشک جو پيتے جا رہے ہو
جِن زخموں کو وقت بھر چلا ہے
تم کيوں انہیں چھيڑے جا رہے ہو

ريکھاؤں کا کھيل ہے مقدّر
ريکھاؤں سے مات کھا رہے ہو

انور جاوید ہاشمی

غروروتمکنت وشوق میں، جو تن کے گئے
دریدہ رُوح ہوئی، اور لباس تن کے گئے


عجیب طور سے ہم مبتلائے عشق ہوئے
گلی میں یار کی، ا کثر فقیر بن کے گئے

نہ مانی دل نےکوئی بات، لاکھ سمجھایا
کہ وہ زمانے میاں قیس وکوہکن کے گئے

رہے کہاں، وہ پرانے عزیز دوست سبھی
جو ہمکلام ہمارے تھے انجمن کے، گئے


بجزمذاق، کوئی ماحصل نہ دیکھو گے
قرینے ہاتھ سے گر، ہاشمی سخن کے گئے

اکبرالٰہ آبادی

اے بُتو بہرِخُدا درپئے آزار نہ ہو
خیرراحت نہ سہی، زیست تو دشوار نہ ہ


یا رب ایسا کوئی بت خانہ عطا کر جس میں
ایسی گزرے کہ تصوّر بھی گنہگار نہ ہو

مُعترِض ہو نہ مِری عُزلت و خاموشی پر
کیا کروں جبکہ کوئی محرمِ اسرار نہ ہو

کیا وہ مستی، کہ دَمِ چند میں تکلیف شُمار
مست وہ ہے کہ قیامت میں بھی ہشیار نہ ہو

جان فرقت میں نہ نکلے تومجھے کیوں ہوعزیز
دوست وہ کیا جو مُصیبت میں مددگار نہ ہو

ناز کہتا ہے کہ زیور سے ہو تزئینِ جمال
نازکی کہتی ہے سُرمہ بھی کہیں بار نہ ہو

دل وہ ہے جس کو ہو سودائے جمالِ معنی
آنکھ وہ ہے کہ جو صُورت کی خریدار نہ ہو

دلِ پُر داغ کو ارماں، کہ گلے اُن کے لگے
اُن کو یہ ڈر، کہ گلے کا یہ کہِیں ہار نہ ہو

عاشقِ چشم سیہ مست تو زنہار نہ ہو
دیکھ اُس جان کی گاہک کا خریدار نہ ہو

ہرغُبارِ رہِ اُلفت ہے مِرا سُرمۂ چشم
دل یہ کہتا ہے کہ یہ خاکِ درِ یار نہ ہو

لن ترانی کی خبر عشق نے سُن رکھّی ہے
پھربھی مشکل ہے کہ وہ طالبِ دیدار نہ ہو

تم کوسودائے ستم کیوں ہے جو ہے شوقِ فُروغ
کیا تلَطُّف سببِ گرمئیِ بازار نہ ہو


قیمتِ دل تو گھٹانے کا نہیں میں اکبر
بے بصیرت نہیں ہوتا جوخریدار نہ ہو


پیر نصیرالدین شاہ نصیر

کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا
مِرا ذوق اُن کی چاہت مِرا شوق اُن پہ مرنا


وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مِری جُنوں مِزاجی
کبھی ڈُوبنا اُبھر کر کبھی ڈُوب کر اُبھرنا

تِرے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا

شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تِرے مُبتلا پہ گُزری
کبھی آہ بھر کے گِرنا کبھی گِر کے آہ بھرنا

وہ تِری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا

کہاں میرے دِل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا تِرے دوش پر بِکھرنا

چلے لاکھ چال دُنیا ہو زمانہ لاکھ دُشمن
جو تِری پناہ میں ہو اُسے کیا کِسی سے ڈرنا


وہ کریں گے ناخُدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیر ورنہ مُشکل تِرا پار یوں اُترنا

مفتی تقی عثمانی

محبت کیا ہے دل کا درد سے معمورہوجانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہوجانا


قدم حیراں ہیں اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہوجانا

یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یاروں
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا

بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا


نظر سے دور رہ کر بھی تقی وہ پاس ہیں میرے
کے میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا.....

پروازؔ جالندھری

جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ہوں گے
ہاں وہی لوگ تمہیں ڈھونڈنے والے ہوں گے


مے برستی ہے، فضاؤں پہ نشہ طاری ہے
میرے ساقی نے کہیں جام اچھالے ہوں گے

شمع وہ لائے ہیں ہم جلوہ گہِ جاناں سے
اب دو عالم میں اجالے ہی اجالے ہوں گے

جن کے دل پاتے ہیں آسائشِ ساحل سے سکوں
اِک نہ اک روز طلاطم کے حوالے ہوں گے

ہم بڑے ناز سے آئے تھے تیری محفل میں
کیا خبر تھی لبِ اظہار پہ تالے ہوں گے


اُن سے مفہومِ غمِ زیست ادا ہو شاید
اشک جو دامنِ مژگاں نے سنبھالے ہوں گے


پروازؔ جالندھری

راحت اندوری

اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے


لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے


سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

مظفر وارثی

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے


تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں
جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے

وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی جانب
ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

کسی کو سوچوں نے کب سراہا ، وہی ہوا جو خدا نے چاہا
جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ، وہی خدا ہے

کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذلت کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے


سفید اُس کا سیاہ اُس کا ، نفس نفس ہے گواہ اُس کا
جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ، بُجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

Friday, January 30, 2015

وصی شاہ



ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺍَﺷﮏ ﺭﻭﮐﻨﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﺐ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ
ﺗﺮﮮ ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﻻﺯﻭﺍﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﺑﺠﺎ ﮐﮯ ﺧﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺭُﺕ ﻣﯿﮟ
ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﮯ ﺍَﺏ ﮐﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﺗﻮ ﻟﻮﭦ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺤﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭُﻭﺡ ﭘﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﺍُﺗﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﺍِﺱ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﮈﮬﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﺋﮯ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﻮ ﺯﻭﺍﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﻣﻠﯿﮟ ﮔﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ
ﺑﺲ ﺍِﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﮯ ﮐﺐ ﯾﮧ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﭘﺮ
ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﻢ ﻭ ﭘﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ
ﻭﺻﯽؔ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﮯ ﮐﺎ ﻣﻼﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ

افتخار عارف


سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں

سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کیلئے پکارا نہیں

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امیں
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

افتخار عارف

آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ


ہم بھی سوچیں گے دعائے بے اثر کے باب میں
اِک نظر تو بھی تضادِ منبر و محراب دیکھ

دوش پر ترکش پڑا رہنے دے، پہلے دل سنبھال
دل سنبھل جائے تو سوئے سینہٴ احباب دیکھ

موجہٴ سرکش کناروں سے چھلک جائے تو پھر
کیسی کیسی بستیاں آتی ہیں زیرِ آب دیکھ


بوند میں سارا سمندر آنکھ میں کل کائنات
ایک مشتِ خاک میں سورج کی آب وتاب دیکھ


افتحار عارف