جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے ، نہ بروں ہے ، یوں ہے
ایک سایہ نہ دروں ہے ، نہ بروں ہے ، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے ، یوں ہے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے ، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے ، یوں ہے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے ، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے ، یوں ہے
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے ، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے ، یوں ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے ، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے ، یوں ہے
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے ، یوں ہے
زندگی یُوں تھی کہ جینے کا بہانہ تُو تھا
ہم فقط زیبِ حکایت تھے، فسانہ تُو تھا
ہم نے جس جس کو بھی چاہا ترے ہجراں میں، وہ لوگ
آتے جاتے ہوئے موسم تھے، زمانہ تُو تھا
اب کے کچھ دل ہی نہ مانا کہ پلٹ کر آتے
ورنہ ہم دربدروں کا تو ٹھکانہ تُو تھا
یار و اغیار کے ہاتھوں میں کمانیں تھیں فرازؔ
اور سب دیکھ رہے تھے کہ نشانہ تُو تھا
میں کہ پرشور سمندر تھے میرے پاؤں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں
نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
دن کے ڈھلتے ہی اجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں
چاکِ دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں
ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں۔۔!!
احمد فراز
سنا ھے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ھیں
تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے ربط ھے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے درد کی گاہک ھے چشمِ ناز اس کی
سو ھم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ھم بھی معجزے اپنے ھنر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ھیں
یہ بات ھے تو چلو بات کر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے رات اسے چاند تکتا رھتا ھے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ھیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں
سنا ھے حشر ہیںاس کی غزال سی آنکھیں
سنا ھے اس کو ھرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ھے رات سے بڑھ کر ہیںکاکلیں اس کی
سنا ھے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے اس کی سیہ چشمگی قیامت ھے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ھیں
سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ھے اس کے بدن کی تراش ایسی ھے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ھیں
سو ھم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ھیں
سنا ھے آئینہ تمثال ھے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیںاسے بن سنور کے دیکھتے ھیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ھے قافلہ دل کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ھیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ھیں
بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ھیں
سنا ھے اس کے شبستاں سے متصل ھے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ھیں
کسے نصیب کے بے پیرھن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ھیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ھیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ھیں
کہانیاں ھی سہی ، سب مبالغے ھی سہی
اگر وہ خواب ھے تعبیر کر کے دیکھتے ھیں
اب اس کے شہر میںٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ھیں.
اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری
وہ قیامت ہی غنیمت تھی جو یکجا گزری
آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن
اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری
میں تو صحرا کی تپش، تشنہ لبی بھول گیا
جو مرے ہم نفسوں پر لب ِدریا گزری
آج کیا دیکھ کے بھر آئی ہیں تیری آنکھیں
ہم پہ اے دوست یہ ساعت تو ہمیشہ گزری
میری تنہا سفری میرا مقدر تھی فراز
ورنہ اس شہر ِتمنا سے تو دنیا گزری
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہی انساں جاناں
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرا تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں
مدتوں سے یہی عالم، نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخلِ زنداں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
ہم کہ روٹھی ہوئی رُت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسمِ ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہوئے اوراقِ پریشاں جاناں
(جنابِ احمد فراز)

0 comments:
Post a Comment