Showing posts with label انور مسعود. Show all posts
Showing posts with label انور مسعود. Show all posts

Wednesday, January 31, 2018

اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا


اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا
رو گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا



لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا



نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنّا ہم کو

حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا



ہم نے جو بھول کے بھی شہ کا قصیدہ نہ لکھا

شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا



اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی

پڑھ کے ناخوش ہیں مرا صاحبِ ثروت لکھنا



دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے

سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا




کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہ کے مصاحب جالب

رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا


حبیب جالب

Sunday, November 30, 2014

انور مسعود



دُنیا بھی عجب قافلہِ تشنہ لباں ہے

ہر شخص سرابوں کے تعاقب میں رواں ہے



تنہا تری محفل میں نہیں ہوں کہ مرے ساتھ
اِک لذتِ پابندیِ اظہار و بیاں ہے



جو دل کے سمندر میں اُبھرتا ہے یقیں ہے
جو ذہن کے ساحل سے گزرتا ہے گُماں ہے



پُھولوں پہ گھٹاؤں کے تو سائے نہیں انور
آوارۂ گلزار نشیمن کا دُھواں ہے




بر سبیلِ تذکرہ اِک روز میڈم نے کہا
اپنے شوخ و شنگ اندازِ تکلم کے بغیر
میرا وعدہ ہے کہ گانا چھوڑ دوں گی میں اگر
مولوی تقریر فرمائے ترنم کے بغیر
____________________________

جو ہے اوروں کی وہی رائے ہماری بھی ہے
ایک ہو رائے سبھی کی، یہ کچھ آسان نہیں
لوگ کہتے ہیں فرشتہ ہیں جنابِ واعظ
ہم بھی کہتے تو یہی ہیں کہ وہ انسان نہیں