Showing posts with label بہادر شاہ ظفر. Show all posts
Showing posts with label بہادر شاہ ظفر. Show all posts

Saturday, June 2, 2018

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا 
جب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا 
اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں 
تو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا 
گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ 
اے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا 
کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے 
اے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا 
دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشق 
لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا 
کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر 
تو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا 
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا 
دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا 
کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار 
تو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا 
کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل 
اور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی توکیا

Monday, May 28, 2018

وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے





وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
بلا سے اس کی گر اس میں کسی مضطر کا دم نکلے

کہاں آنسو کے قطرے خون دل سے ہیں بہم نکلے
یہ دل میں جمع تھے مدت سے کچھ پیکان غم نکلے

مرے مضمون سوز دل سے خط سب جل گیا میرا
قلم سے حرف جو نکلے شرر ہی یک قلم نکلے

نکال اے چارہ گر تو شوق سے لیکن سر پیکاں
ادھر نکلے جگر سے تیر ادھر قالب سے دم نکلے

تصور سے لب لعلیں کے تیرے ہم اگر رو دیں
تو جو لخت جگر آنکھوں سے نکلے اک رقم نکلے

نہیں ڈرتے اگر ہوں لاکھ زنداں یار زنداں سے
جنون اب تو مثال نالۂ زنجیر ہم نکلے

جگر پر داغ لب پر دود دل اور اشک دامن میں
تری محفل سے ہم مانند شمع صبح دم نکلے

اگر ہوتا زمانہ گیسوئے شب رنگ کا تیرے
مری شب دیز سودا کا زیادہ تر قدم نکلے

کجی جن کی طبیعت میں ہے کب ہوتی وہ سیدھی ہے
کہو شاخ گل تصویر سے کس طرح خم نکلے

شمار اک شب کیا ہم نے جو اپنے دل کے داغوں سے
تو انجم چرخ ہشتم کے بہت سے ان سے کم نکلے

خدا کے واسطے زاہد اٹھا پردہ نہ کعبہ کا
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

تمنا ہے یہ دل میں جب تلک ہے دم میں دم اپنے
ظفرؔ منہ سے ہمارے نام اس کا دم بہ دم نکل

بہادر شاہ ظفر

Friday, January 30, 2015

بہادر شاہ ظفر


پسِ مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا
اُسے آہ دامنِ باد نے سرِ شام ہی بجھا دیا
مجھے دفن کرنا تو جس گھڑی، تو یہ اُس سے کہنا
وہ جو تیرا عاشقِ زار تھا، تہ خاک اُس کو دبا دیا
دمِ غسل سے مرے پیشتر، اُسے ہمدموں نے یہ سوچ کر
کہیں جاوے نہ اس کا دل دہل مری لاش پر سے ہٹا دیا
مری آنکھ جھپکی تھی ایک پل میرے دل نے چاہا کہ اٹھ کہ چل
دلِ بیقرار نے او میاں! وہیں چٹکی لے کے جگا دیا
میں نے دل دیا، میں نے جان دی! مگر آہ تو نے قدر نہ کی
کسی بات کو جو کبھی کہا، اسے چٹکیوں میں اڑا دیا