Wednesday, January 31, 2018

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو


ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو
کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو 

وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر
وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو
چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورت
پکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو
تجھے تراش کے میں سخت منفعل ہوں کہ لوگ
تجھے صنم تو سمجھنے لگے خدا مجھ کو
یہ اور بات کہ اکثر دمک اٹھا چہرہ
کبھی کبھی یہی شعلہ بجھا گیا مجھ کو
یہ قربتیں ہی تو وجہ فراق ٹھہری ہیں
بہت عزیز ہیں یاران بے وفا مجھ کو
ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں
وہ ایک شخص کہ شاعر بنا گیا مجھ کو
اسے فرازؔ اگر دکھ نہ تھا بچھڑنے کا
تو کیوں وہ دور تلک دیکھتا رہا مجھ کو

احمد فراز

محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا


محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا



قدم ہیں راہِ الفت میں‌ تو منزل کی ہوس کیسی؟
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہو جانا



یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا



بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا



نظر سے دور رہ کر بھی تقی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا


مفتی تقی عثمانی

نقاب روئے نادیدہ کا از خود دور ہو جانا

Related image


ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہو جانا 
جہاں سے چاہنا ان کا وہیں سے دور ہو جانا 

نقاب روئے نادیدہ کا از خود دور ہو جانا 
مبارک اپنے ہاتھوں حسن کو مجبور ہو جانا 

سراپا دید ہو کر غرق موج نور ہو جانا 
ترا ملنا ہے خود ہستی سے اپنی دور ہو جانا 

نہ دکھلائے خدا ، اے دیدہ تر دل کی بربادی 
جب ایسا وقت آئے پہلے تو بے نور ہو جانا 

جو کل تک لغزش پائے طلب مسکراتے تھے 
وہ دیکھیں آج ہر نقش قدم کا طور ہو جانا 

محبت کیا ہے ، تاثیر محبت کس کو کہتے ہیں؟ 
ترا مجبور کر دینا،مرا مجبور ہو جانا 

محبت عین مجبوری سہی لیکن یہ کیا باعث 
مجھے باور نہیں آتا مرا مجبور ہو جانا 

نگاہ ناز کو تکلیف جنبش تا کجا آخر 
مجھی پر منحصر کر دو مرا مجبور ہو جانا 

جگر وہ حسن یکسوئی کا منظر یاد ہے اب تک 
نگاہوں کا سمٹنا اور ہجوم نور ہو جانا 

جگر مراد آبادی

مِرا دیوانگی پر اس قدر مغرُور ہو جانا


مِرا دیوانگی پر اس قدر مغرُور ہو جانا
کہ رفتہ رفتہ حدِِّ آگہی سے دُور ہو جانا



پتہ دیتا ہے گُمراہیِ رہگیرِ محبت کا
بِچھڑنا اور بِچھڑ کر قافلے سے دُور ہو جانا



کہیں دنیائے اُلفت کو تہہ و بالا نہ کرڈالے
غرُورِ حُسن کے آئین کا دستُور ہو جانا



ازل سے تیرہ بخت عِشق کے حصے میں آیا ہے
شبِ غم دِل کا جل جل کر چراغِ طُور ہو جانا



مِری دانستِ ناقص میں کمالِ خود نُمائی ہے
زمیں سے آسماں تک آپ کا مشہُور ہو جانا



کسی کا جشنِ آزادی منانا ہے بہت آسان
مگر دُشوار ہے غارت گرِ جمہُور ہو جانا



رگوں کا خون رفتہ رفتہ ٹھنڈا ہو چلا میکشؔ
مِرے دردِ جِگر کو آگیا کافُور ہو جانا۔۔۔!

میکشؔ ناگپوری

ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ محبت لکھنا


ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ محبت لکھنا

زندگی بھر کسی انساں سے نہ نفرت لکھنا
ان کو چاہا تو عجب شان سے چاہا ہم نے
بس انہیں سوچا ہے تاعمر قیامت لکھنا
کچھ ہنر آ نہ سکا مدح سرائی کا ہمیں
اور آیا تو روایت سے بغاوت لکھنا
رہبرِ قوم ملے کیسے ہمیں واہ رے نصیب
,, اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا,,
سر میں سودا لئے پھرتے رہے در در یارو!
الغرض سیکھ گئے نسخۂ وحشت لکھنا
ان دنوں شہر کے لوگوں کا چلن ایسا ہوا
چور ہیں جو بھی انہیں صاحبِ ثروت لکھنا
الاماں بیٹھے ہیں مسند پہ یہ کیسے حاکم
جن کی خصلت ہی نہیں لوگوں کی خدمت لکھنا
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کب سے یارو!
کون پوری کرے حاجت کیا شکایت لکھنا
ان سے رکھا نہ گیا کچھ بھی محبت کا بھرم
خاک اب خط میں انہیں جانِ محبت لکھنا
ہاتھ میں رکھا ہے بس ہم نے قلم کا ہتھیار
پاس اپنے ہے یہی حرف کی طاقت لکھنا
زندگی بھر ہمیں شہزاد کہاں چین ملا
کاش آجاتا ہمیں غم کو بھی راحت لکھنا

ضیاء شہزاد

اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا


اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا
رو گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا



لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا



نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنّا ہم کو

حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا



ہم نے جو بھول کے بھی شہ کا قصیدہ نہ لکھا

شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا



اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی

پڑھ کے ناخوش ہیں مرا صاحبِ ثروت لکھنا



دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے

سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا




کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہ کے مصاحب جالب

رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا


حبیب جالب

Tuesday, January 30, 2018

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی


سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی


اہلِ محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پُرسش نہیں کی


جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی


یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی


اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی


ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی


اے مرے ابرِ کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی


کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتلِ شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی


وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

احمد فرازؔ

جب بھی لکھنا ہو تمہیں صرف حقیقت لکھنا

Image result



احمد علی برقی اعظمی

جب بھی لکھنا ہو تمہیں صرف حقیقت لکھنا
تم ریاکاری کو ہرگز نہ عبادت لکھنا
اے مورخ رہے ملحوظ قلم کی حُرمت
میرے حالات کو افسانۂ عبرت لکھنا
جس سے وہ صفحۂ تاریخ کی زینت بن جائے
ہو بہو جیسی ہو جس کی وہی صورت لکھنا
ناگہاں موت قیامت سے نہیں کم ہوتی
تم فسادات کو آثارِ قیامت لکھنا
آج ہیں نذرِ فسادات جہاں بھی مظلوم
تم اسے اہلِ حکومت کی شرارت لکھنا
امن کے نام پہ جو جنگ کو دیتے ہیں ہوا
اُن کے اطوار کو شیطان کی خصلت لکھنا
جیسے پہلے تھے نہ ویسے رہے برقی اخبار
آج سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا

ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ محبت لکھنا


ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ محبت لکھنا

زندگی بھر کسی انساں سے نہ نفرت لکھنا
ان کو چاہا تو عجب شان سے چاہا ہم نے
بس انہیں سوچا ہے تاعمر قیامت لکھنا
کچھ ہنر آ نہ سکا مدح سرائی کا ہمیں
اور آیا تو روایت سے بغاوت لکھنا
رہبرِ قوم ملے کیسے ہمیں واہ رے نصیب
,, اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا,,
سر میں سودا لئے پھرتے رہے در در یارو!
الغرض سیکھ گئے نسخۂ وحشت لکھنا
ان دنوں شہر کے لوگوں کا چلن ایسا ہوا
چور ہیں جو بھی انہیں صاحبِ ثروت لکھنا
الاماں بیٹھے ہیں مسند پہ یہ کیسے حاکم
جن کی خصلت ہی نہیں لوگوں کی خدمت لکھنا
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کب سے یارو!
کون پوری کرے حاجت کیا شکایت لکھنا
ان سے رکھا نہ گیا کچھ بھی محبت کا بھرم
خاک اب خط میں انہیں جانِ محبت لکھنا
ہاتھ میں رکھا ہے بس ہم نے قلم کا ہتھیار
پاس اپنے ہے یہی حرف کی طاقت لکھنا
زندگی بھر ہمیں شہزاد کہاں چین ملا
کاش آجاتا ہمیں غم کو بھی راحت لکھنا

 ضیاء شہزاد

اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا

Image result for habib jalib



حبیب جالب
اور سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا
رو گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنّا ہم کو
حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا
ہم نے جو بھول کے بھی شہ کا قصیدہ نہ لکھا
شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا
اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی
پڑھ کے ناخوش ہیں مرا صاحبِ ثروت لکھنا
دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے
سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا
کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہ کے مصاحب جالب
رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا

شیشہ مرے لا شعور کا ہے


سلیمان خمار
شیشہ مرے لا شعور کا ہے
جس میں ترا عکس جم گیا ہے


یوں ہے کہ معاملہ ہمارا
ہاتھوں کی لکیر سے ورا ہے


تھکتے نہیں اس لئے مرے پانؤ
تُو بھی مرے ساتھ چل رہا ہے


جلتا ہے نہ جانے کیوں زمانہ
جب تُو مجھے ہنس کے دیکھتا ہے


ٹوٹی مری نیند تو کھُلا یہ
میرے لئے کوئی جاگتا ہے


پھر آگئی دل میں یاد اُس کی
صحرا میں گلاب کھِل رہا ہے


تنہائیاں گُنگُنا رہی ہیں
یادوں کا ستار بج رہا ہے


لمحوں کی تِھرکتی تتلیوں پر
میں نے ترا نام لکھ دیا ہے


جادو ہیں تری سمندر آنکھیں
دریا کا بہاؤ رُک گیا ہے

احمد ندیم قاسمی


احمد ندیم قاسمی
ہر لمحہ اگر گریز پا ہے
تُو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے


چلمن میں گلاب کھِل رہا ہے
یہ تُو ہے کہ شوخیء صبا ہے


میں نے تجھے دیکھا جب سے پیارے
ہر چیز پہ، پیار آ رہا ہے


میری تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
چپ بھی تو بیانِ مدعا ہے


ہر دیس کی اپنی اپنی بولی
صحرا کا سکوت بھی صدا ہے


اک عمر کے بعد مسکرا کر
تُو نے تو مجھے رُلا دیا ہے


اُس وقت کا میں حساب کیا دوں
جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے


رونے کو اب اشک بھی نہیں ہیں
یا عشق کو صبر آ گیا ہے


اب کس کی تلاش میں ہیں جھونکے
میں نے تو دیا بُجھا دیا ہے


کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا
یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

ایک زمین کئی شاعر
محشر بدایونی اور احمد علی برقی اعظمی
محشر بدایونی
آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا 
اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائے گا 
سوچتا ہوں اشک حسرت ہی کروں نذر بہار 
پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا رہ جائے گا 
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ 
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا 
آج اگر گھر میں یہی رنگ شب عشرت رہا 
لوگ سو جائیں گے دروازہ کھلا رہ جائے گا 
تا حد منزل توازن چاہئے رفتار میں 
جو مسافر تیز تر آگے بڑھا رہ جائے گا 
گھر کبھی اجڑا نہیں یہ گھر کا شجرہ ہے گواہ 
ہم گئے تو آ کے کوئی دوسرا رہ جائے گا 
روشنی محشرؔ رہے گی روشنی اپنی جگہ 
میں گزر جاؤں گا میرا نقش پا رہ جائے گا 
احمد علی برقیؔ اعظمی
نور حق کونین میں جلوہ نما رہ جائے گا
’’ جس دئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا ‘‘
حُسنِ عالمتاب ہے غارتگرِ ہوش و خرد
تو اگر دیکھے گا اس کو دیکھتارہ جائے گا
خاک میں مِل جائے کا یہ جاہ و حشمت کا نشاں
صفحۂ تاریخ پر تو بدنما رہ جائے گا
کام آئیں گے نہ تیرے حاشیہ بردار یہ
ساتھ تیرے ظلم و جورِ ناروا رہ جائے گا
یہ جہانِ رنگ و بو ہے عالمِ ناپایدار
سب فنا ہوجائے گا دارالبقا رہ جائے گا
ظلم و استحصال کی ہوتی ہے آخر ایک حد
ختم ہوجائے گا سب نامِ خدا رہ جائے گا
خدمتِ نوعِ بشر سے بڑھ کے برقی کچھ نہیں
زیبِ تاریخِ جہاں نامِ وفا رہ جائے گا

ایک زمین کئی شاعر


ایک زمین کئی شاعر
میرتقی میر اور احمد علی برقی اعظمی
میر تقی میرؔ
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا 
قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا 
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک 
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا 
آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سے 
واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا 
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش 
آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا 
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا 
رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا 
احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحم 
جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا 
منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے 
شب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا
احمد علی برقی اعظمی
سرسبز کھیت گلشنِ شاداب لے گیا
سب کچھ بہا کے ساتھ میں گرداب لے گیا
برباد کر نہ دے تجھے تیرا خمارِ خواب
’’ مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا‘‘
مت پوچھ میرے کیسے گذرتے ہیں روز و شب
جو کچھ بچی تھی مُجھ میں تب و تاب لے گیا
گُل ہو نہ جائے شمعِ شبستانِ زندگی
جو روشنی تھی کِرمکِ شبتاب لے گیا
صبر آزما ہے میرے لئے اُس کا انتظار
آنکھوں سے وہ چُرا کے مری خواب لے گیا
آنکھوں کی میری پیاس بجھائے گا کون اب
چشمِ پُر آب سے وہ مری آب لے گیا
وہ اپنے ساتھ لے گیا اس کی متاعِ شوق
برقیؔ سے اس کا گوہرِ نایاب لے گیا

Wednesday, October 18, 2017

فیض احمد فیض


سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی!
ہاں، ہم ہی کاربندِ اُصولِ وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بُھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے  

کیوں دادِ غم ہمیں نے طلب کی، بُرا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے

گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محوِ مدح خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے

لب پر ہے تلخیِ مئے  ایّام، ورنہ فیض
ہم تلخیِ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

فیض احمد فیض 

Friday, May 12, 2017

رونے سے اور عِشق میں بیباک ہوگئے


رونے سے اور عِشق میں بیباک ہوگئے
دھوئے گئے ہم اتنے، کہ بس پاک ہوگئے

صرفِ بہائے مے ہُوئے آلاتِ میکشی !
تھے یہ ہی دو حساب سو یُو ں پاک ہوگئے
رُسوائے دہر گو ہُوئے آوار گی سے تم
بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہوگئے
کہتا ہے کون نالۂ بُلبُل کو بے اثر
پردے میں گُل کے، لاکھ جگر چاک ہوگئے
پُوچھے ہے کیا وجُود و عدم اہلِ شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہوگئے
کرنے گئے تھے اُس سے تغافل کا ہم گِلہ
کی ایک ہی نِگاہ کہ بس خاک ہوگئے

اِس رنگ سے اُٹھائی کل اُس نے اسد کی نعش
دُشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہوگئے
مرزا اسداللہ خاں غالب 

ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات، یاد نہ تُم کو آ سکے




ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات، یاد نہ تُم کو آ سکے
تُم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بُھلا سکے



تُم ہی اگر نہ سُن سکے، قِصّۂ غم سُنے گا کون 
کس کی زباں کُھلے گی پھر، ہم نہ اگر سُنا سکے



ہوش میں آ چکے تھے ہم، جوش میں آ چکے تھے ہم
بزْم کا رنگ دیکھ کر سَر نہ مگر اُٹھا سکے



رونقِ بزْم بن گئے، لب پہ حکایتیں رہیں
دل میں شکایتیں رہیں لب نہ مگر ہِلا سکے



شوقِ وصال ہے یہاں، لب پہ سوال ہے یہاں
کِس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے



ایسا ہو کوئی نامہ بر، بات پہ کان دھر سکے
سُن کے یقین کرسکے، جا کے اُنھیں سُنا سکے



عجْز سے اور بڑھ گئی  برہمیِ مزاجِ دوست
اب وہ کرے علاجِ دوست، جس کی سمجھ میں آ سکے



اہلِ زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہلِ دل
کون تِری طرح حفیظ ، درد کے گیت گا سکے



حفیظ جالندھری

ممکن ہو آپ سے تو بھلا دیجئے مجھے


ممکن ہو آپ سے تو بھلا دیجئے مجھے
پتھر پہ ہوں لکیر مٹا دیجئے مجھے

ہر روز مجھ سے تازہ شکایت ہے آپ کو
میں کیا ہوں، ایک بار بتا دیجئے مجھے

میرے سوا بھی ہے کوئی موضوعِ گفتگو
اپنا بھی کوئی رنگ دکھا دیجئے مجھے

میں کیا ہوں کس جگہ ہوں مجھے کچھ خبر نہیں
ہیں آپ کتنی دور صدا دیجئے مجھے

کی میں نے اپنے زخم کی تشہیر جا بجا
میں مانتا ہوں جرم سزا دیجئے مجھے

قائم تو ہو سکے کوئی رشتہ گہر کے ساتھ
گہرے سمندروں میں بہا دیجئے مجھے

شب بھر کرن کرن کو ترسنے سے فائدہ
ہے تیرگی تو آگ لگا دیجئے مجھے

جلتے دنوں میں خود پسِ دیوار بیٹھ کر
سائے کی جستجو میں لگا دیجئے مجھے

شہزادؔ یوں تو شعلۂ جاں سرد ہو چکا
لیکن سُلگ اٹھیں تو ہوا دیجئے مجھے
شہزاد احمد

Wednesday, June 3, 2015

میر وزیر علی صبا لکھنوی

جلوہ ہے ہر اک رنگ میں اے یار تمہارا
اک نور ہے کیا مختلف آثار تمہارا

ہوتا نہ یہ بندہ جو خریدار تمہارا
رونق نہ پکڑتا کبھی بازار تمہارا

اے منعمو! سامانِ سواری پہ نہ بھولو
اڑ جائے گا اک روز ہوادار تمہارا

تم قتل کرو گے جو مجھے تیغِ نگہ سے
منہ دیکھ کے رہ جائے گی تلوار تمہارا

بوسے لبِ شیریں کے عنایت نہیں ہوتے
پرہیز میں مر جائے گا بیمار تمہارا



گہ آئینہ ہوا، گہ دیدہء پُر آب گھٹا
کبھی بڑھا کبھی دریائے اضطراب گھٹا

عزیز آئے نہ رونے کو میری تربت پر
بہا کے اشک ہوئی داخلِ ثواب گھٹا

تمہاری زلف نہ گردابِ ناف تک پہنچی
ہوئی نہ چشمہء حیواں سے فیض یاب گھٹا

فراقِ یار میں بے کار سب ہیں اے ساقی
پیالہ، شیشہ، گزک، میکدہ، شراب، گھٹا

کسی کو منہ تہہِ زلفِ سیاہ یاد آیا
کبھی جو آ گئ بالائے آفتاب گھٹا 

تری کمر کی لچک پر تڑپتی ہے بجلی
ہوائے زلف میں کھاتی ہے پیچ و تاب گھٹا


ہوائے یار میں کیا دل کو اضطراب رہا
چکور چاند کی خاطر بہت خراب رہا

ہمیشہ کوششِ دنیا میں اضطراب رہا
بہت خراب دلِ خانماں خراب رہا

نہ برشگال میں جب تک شراب پلوا لی
بلا کی طرح سے سر پر مرے سحاب رہا

ہم اپنے حال پہ روتے ہیں اب ضعیفی میں
خوشا وہ عہد کہ طفلی رہی، شباب رہا

وہ بادہ نوش تھے پیری میں بھی نہ توبہ کی
شراب خُم میں رہی، شیشی میں خضاب رہا

ہر اک مقام پہ نشوونما رہی دل کی
چمن میں پھول رہا، بحر میں حباب رہا

خط آ گیا ، نہ رہا عشقِ مصحفِ رخِ یار
نہ وہ کتاب رہی اور نہ وہ حساب رہا

ہمیشہ قلزمِ ہستی میں صورتیں بدلیں
کبھی تو موج رہا اور کبھی حباب رہا

یہ وہ فلک ہے کہ جس کے سبب سے عالم میں
نہ ایک حال پہ دو روز ماہتاب رہا

خوشی وہ کون سی دی جس کے بعد غم نہ دیا
ہمیشہ سر پہ فلک بر سرِ حساب رہا

کمند لے کے وہیں موج ہو گئ موجود
جہاں ذرا سر اٹھائے ہوئے حباب رہا

برنگِ موجِ ہوا اے صبا ہوئے تھے خلق
رہے جہان میں جس دم تک اضطراب رہا



کیوں ان کی چال دیکھی جو یہ حال ہو گیا
میں آپ اہنے ہاتھ سے پامال ہو گیا

کچھ قیس سے بھی بڑھ کے مرا حال ہو گیا
کس قہر کا جنوں مجھے امسال ہو گیا

میں بدنصیب، غیر خوش اقبال ہو گیا
یہ آپ کے مزاج کا کیا حال ہو گیا

دریا بہا مرے عرقِ انفعال کا
کاغز کی ناؤ نامہء اعمال ہو گیا

ہم پِس گئے خرام پہ تو یار نے کہا
پاپوش سے اگر کوئی پامال ہو گیا

مجھ سے فضول خرچ کے ہتھے جو چڑھ گیا
دو دن میں آسمان بھی کنگال ہو گیا



نیا سوانگ لائے ہیں عشقِ صنم میں
ذرا کوئی دیکھے تماشا ہمارا

نکل جائے گی سب کجی آسماں کی
کبھی تو پھرے گا زمانا ہمارا

دلایا گیا فاتحہ جامِ مے پر
ہوا میکدے میں پیالا ہمارا

شبِ ہجر میں عرش تک ہل رہا ہے
بہت دور جاتا ہے نالا ہمارا

ترے ہاتھ سے واشدِ دل نہ ہو گی
کھلے گا نہ تجھ سے معما ہمارا

کدورت نہیں اپنی طبعِ رواں میں
بہت صاف بہتا ہے دریا ہمارا




واعظ کے، میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا
جامِ شراب لائے بھی، ساقی کدھر گیا

بلبل کہاں، بہار کہاں، باغباں کہاں
وہ دن گذر گئے، وہ زمانہ گذر گیا

جھوٹوں کا بادشاہ کہوں، اے صنم تجھے
یہ حال ہے کہ بات کہی اور مکر گیا

ایسی کفن کی قطع پسند آ گئ ہمیں
دل سے ہمارے جامہء ہستی اتر گیا

صورت ہمارے دیدہء حیراں کی دیکھ کر
آئینہ صاف ان کی نظر سے اتر گیا

اچھا ہوا جو ہو گئے وحدت پرست ہم
فتنہ گیا، فساد گیا، شور و شر گیا

کعبے کی سمت سجدہ کیا دل کو چھوڑ کر
تو کس طرف تھا، دھیان ہمارا کدھر گیا

مثلِ حباب بحرِ جہاں میں نہ دم لیا
اک موج تھا کہ میں اِدھر آیا، اُدھر گیا

پھر سیرِ لالہ زار کو ہم اے صبا چلے
آئی بہار، داغِ جنوں پھر ابھر گیا

Monday, May 25, 2015

رفیع رضا

رفیع رضا

گرتے ہُوئے ملبے میں ستارہ تو نہیں ہے
اب یہ میرے جانے کا اشارہ تو نہیں ہے!

جو گُنبدِ خاموش اُٹھایا تھا ازل سے
وُہ بوجھ ابھی سر سے اُتارا تو نہیں ہے

وُہ آخری آرام سڑک پر ہی مِلے گا
فُٹ پاتھ پہ چیخوں کا گُزارہ تو نہیں ہے

شمشان میں رکّھی ہوئی دُنیا کو کروں کیا
اب دیکھنے والا یہ نظارہ تو نہیں ہے

ترتیب سے رکّھے ہیں یہ خوابوں کے جنازے
آ دیکھ لے تیرا کوئی پیارا تو نہیں ہے

کیا پونچھنے والا ہے وُہ آنکھوں سے لہو کو
اُس نیلگوں دامن نے پُکارا تو نہیں ہے!

وحشت نے اُچھالی ہے مری خاک وگرنہ
اُڑنا میری مٹی کو گوارا تو نہیں ہے

کیوں دیدۂ افلاک میں افسوس چمکتا
یہ نظم ہے قُرآں کا سپارہ تو نہیں ہے


گُلِ سیاہ کِھلا ہے سو دیکھنا کیا ہے
یہ پُورے دن کا صِلہ ہے! سو دیکھنا کیا ہے

منڈیر وقت کی خستہ تھی میرے پاؤں تلے
ہوا کا سانس رُکا ہے سو دیکھنا کیا ہے

وُہ جس کو اپنے پروں پر بہت بھروسہ تھا
وُہی پرندہ گِرا ہے سو دیکھنا کیا ہے

اگر اُمنگ نہیں ہے تو میں بھی دنگ نہیں
لہو میں رنگ بچا ہے سو دیکھنا کیا ہے

بگُولہ سا کہیں چکرا رہا ہے وحشت میں
یہ شور دیکھا ہوا ہے سو دیکھنا کیا ہے

عجیب سنگِ حقیقت تھا عین دل پہ لگا
اب عکس ٹوٹ گیا ہے سو دیکھنا کیا ہے

دھُوئیں نے تان لی چادر تو میں ہوا اندھا
یہ "دیکھنا" ہی بُجھا ہے سو دیکھنا کیا ہے

خُود اپنے خواب کی نظروں میں آ گیا ہُوں میں
وُہ مُجھ کو دیکھ رہا ہے سو دیکھنا کیا ہے


جو دن کے ساتھ نکل کر غروب ہوتا ہوں
تو اپنے خُون میں ڈھل کر غروب ہوتا ہوں

غروب ہونے کی کُچھ اور صُورتیں بھی ہیں
مُجھے یہ کیا ہے کہ جل کر غروب ہوتا ہوں

پُکارتا ہے کسی اورکو اُفق لیکن
میں اپنا نام بدل کر غروب ہوتا ہوں

نہ جانے کون مُجھے اپنے پیچھے چھوڑ گیا
میں سارے دشت میں چل کر غروب ہوتا ہوں

پھر آبِ سُرخ کٹاؤ میں ڈھُونڈتا ہے مُجھے
میں آنکھیں زور سے مَل کر غروب ہوتا ہوں

کسے خبر کہ کسی دن کوئی طلوع نہ ہو
کئی دنوں سے سنبھل کر غروب ہوتا ہوں


ایک اس عُمر کا ہی کاٹنا کافی نہیں کیا
عشق کا بوجھ مری جاں پہ اضافی نہیں کیا

تیری اُمید پہ پُورا نہیں اُترا لیکن
میرے آنسو ترے نُقصان کی تلافی نہیں کیا

پسِ دیوار بھی دیوار کھڑی کر دی ہے
آپ ہی کہئیے کہ یہ وعدہ خلافی نہیں کیا

آسماں کی طرف اُمید سے جو دیکھتا ہوں
یہ مرا جُرم سہی اسکی معافی نہیں کیا

معجزے کیا ہُوئے وُہ ساری دُعائیں ہیں کہاں
اب کوئی دستِ مسیحائی بھی شافی نہیں کیا

عہد شکنی ہو خیانت ہو ریاکاری ہو
کُچھ بھی آدابِ سیاست کے مُنافی نہیں کیا

مُنفرد کیسے نہ مانیں گے یہ نقاد مُجھے
سب انوکھے مری غزلوں کے قوافی نہیں کیا



اوروں نے جب زمیں کو وراثت میں لے لیا
میں نے بھی آسمان کو غُربت میں لے لیا

سویا ہوا تھا شہر مگر، یُونہی خوف نے
میں جاگتا تھا، مُجھ کو حراست میں لے لیا

سوچا کہ کُچھ نہیں ہے تو دن ہی نکال لُوں
یہ کام رات میں نے فراغت میں لے لیا

مرکز میں اُس کے تھی کوئی منزل کِھلی ہوئی
جس دائرے نے مُجھ کو مسافت میں لے لیا

شُعلے کا رقص دیکھنے آئے ہوئے ہجوم!
مُجھ سے یہ کام سب نے محبت میں لے لیا

صف خالی ہو گئی سبھی وحشی نکل گئے
میں نے خُدا کا نام جو وحشت میں لے لیا

تُم مل گئے تو دیکھو تُمھاری خُوشی کو پھر
چاروں طرف سے دُکھ نے حفاظت میں لے لیا

پہلے کوئی خلا میرے دل کے قریب تھا
پھر اِس کو میری آنکھ نے وُسعت میں لے لیا

جیسے اُلٹ گئی کہیں ترتیب ِ خدّوخال
ذرّے نے کائنات کو حیرت میں لے لیا


جس طرف آنکھ اُٹھاتا ہوں اُدھر مٹی ہے
خاک دیکھوں مَیں کہ تا حدِّ نظر مٹی ہے

کھینچتا رہتا ہے کوئی مُجھے مٹی سے پرے
پر میں اُس سمت کو کِھنچتا ہُوں جدھر مٹی ہے

ایسے لگتا ہے کہ میں بیٹھ گیا ہوں تھک کر
ایسے لگتا ہے کہ اب محوِ سفر مٹی ہے

سبز ہونے سے حقیقت تو نہیں بدلے گی
لاکھ اِترائے مگر اصلِ شجر مٹی ہے

ہو گا افلاک پہ بھی دُکھ کا مداوا لیکن
کھُلے زخموں کے لئے زُود اثر مٹی ہے


میں نے لیا ہے آنکھ میں بھر اتنا آسمان
کیسے کرے گا دل میں سفر اتنا آسمان

جتنا نکل کے آیا ہے مُجھ کو یقین ہے
اب بھی بچا ہوا ہے اُدھر اتنا آسمان

جا کر مِلے گی پھر تو حدِ وقت سے فصیل
بُنیاد میں لگایا اگر اتنا آ سمان

اتنی کُشادگی سے کہاں پھِر سکے گا یہ
کر دُوں اگر میں آنکھ بدر اتنا آسمان

ظاہر ہے حاشئے میں وُہی لکھ رہا ہوں میں
دیتا ہے مُجھ کو جس کی خبر اتنا آسمان

اب بولنے لگا ہوں زمیں کے خلاف بھی
مُجھ کو بنا رہا ہے نڈر اتنا آسمان

وُہ کون معتبر ہے رضا مَیں بھی دیکھ لُوں
حیرت سے دیکھتا ہے جدھر اتنا آسمان


زمیں و آسماں کا کیا کیا جائے
اور ان کے درمیاں کا کیا کیا جائے

نہ پُوچھو اُس جہاں سے کیا ہوا تھا
یہ پُوچھو اِس جہاں کا کیا کیا جائے

زمیں تو کھوکھلی کر دی ہے ہم نے
اور اب سیّارگاں کا کیا کیا جائے

نہ چلنے دے جو اپنے کارواں کو
تو میرِ کارواں کا کیا کیا جائے

ہماری داستاں میں رو پڑی ہے
تُمھاری داستاں کا کیا کیا جائے

اکیلا ہی جسے میں سُن رہا ہوں
اب اُس شور و فغاں کا کیا کیا جائے

سفر میں اک ستارہ بھی بہت تھا
ہجومِ کہکشاں کا کیا کیا جائے

نتیجہ کُچھ بھی نکلے کُچھ تو نکلے
مسلسل امتحاں کا کیا کیا جائے

مقدس آگ پر ہی مُنحصر ہے!
ہمارے جسم و جاں کا کیا کیا جائے

جسے حیرت نہیں ہے اور شک ہے
اب ایسے بد گُماں کا کیا کیا جائے

نظر آتا ہے سر پر اور نہیں ہے!
رضا اس آسماں کا کیا کیا جائے


کسی صُورت بُلا ہی لیتی ہے
مُجھے شدّت بُلا ہی لیتی ہے

اتنی محنت سُخن میں کرتا ہوں
کہ سہولت بُلا ہی لیتی ہے

کسی آرام سے نہیں رُکتا
کوئی وحشت بُلا ہی لیتی ہے

کُچھ دنوں میں خفاسا پھرتا ہُوں
پھر محبت بُلا ہی لیتی ہے

میں قدامت پسندہوں لیکن
مُجھے جدّت بُلا ہی لیتی ہے

کُچھ تعلق نکل ہی آتا ہے
کوئی حیرت بُلا ہی لیتی ہے

سر سے اُونچی فصیل ہو جائے
تو بغاوت بُلا ہی لیتی ہے

صُورتِ حال ایسی، اپنے لئے
خُود قیامت بُلا ہی لیتی ہے

جہاں کوئی نہیں وکیل رضاؔ
وُہ عدالت بُلا ہی لیتی ہے

رفیع رضا