Wednesday, November 12, 2014

منیرنیازی


اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا


منیرنیازی



پہلے پہل تو جی نہ لگا پردیس کے اِن لوگوں میں
رفتہ رفتہ اپنے ہی گھر سے سارے ناطے ٹوٹے

یہ تو سچ ہے سب نے مل کر دلجوئی بھی کی تھی
اپنی رُسوائی کے مزے بھی سب یاروں نے لوٹے

میں جو منیرؔ اک کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزرا
اُس کی تیلوں سے ریشم کے شگوفے پُھوٹے



وہ دل کی باتیں زمانے بھر کو یہ یوں سناتا ، مجھے بتاتا
وہ اک دفعہ تو میری محبت کو آزماتا ، مجھے بتاتا
زبانِ خلقت سے جانے کیا کیا وہ مجھ کو باور کرارہا ہے
کسی بہانے انا کی دیوار گراتا ، مجھے بتاتا
زمانے والوں کو کیا پڑی ہے سنیں جو حال دل شکستہ
مگر میری تو یہ آرزو تھی مجھے چلاتا ، مجھے بتاتا
مجھے خبر تھی کہ چپکے چپکے اندھیرے اس کو نگل رہے ہیں
میں اس کی راہ میں اپنے دل کا دیا جلاتا ، مجھے بتاتا
منیر اس نے ستم کیا کہ شہر چھوڑ دیا خامشی کے ساتھ
میں اس کی خاطر یہ دنیا چھوڑ جاتا ، مجھے بتاتا



دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے

کہنے کو اپنے دل میں کوئی داستاں تو ہے


یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں
صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے

اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر ـــــــ رائیگاں تو ہے

مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیر
پردہ سا کوئی میرے تیرے درمیان تو ہے



ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں



رات فلک پر رنگ برنگی آگ کے گولے چھوٹے
پھر بارش وہ زور سے برسی ـــــ مہک اُٹھے گل بوٹے

اُس کی آنکھ کے جادو کی ہر ایک کہانی سچی
میرے دل کے خُوں ہونے کے سب فسانے جُھوٹے

پہلے پہل تو جی نہ لگا پردیس کے اِن لوگوں میں
رفتہ رفتہ اپنے ہی گھر سے سارے ناطے ٹوٹے

یہ تو سچ ہے سب نے مل کر دلجوئی بھی کی تھی
اپنی رُسوائی کے مزے بھی سب یاروں نے لوٹے

میں جو منیرؔ اک کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزرا
اُس کی تیلوں سے ریشم کے شگوفے پُھوٹے



وصال کی خواہش
کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں
جو دل میں پوشیدہ ہیں
سارے روپ دکھا دے مجھ کو
جو اب تک نادیدہ ہیں

ایک ہی رات کے تارے ہیں
ہم دونوں اس کو جانتے ہیں
دوری اور مجبوری کیا ہے
اس کو بھی پہچانتے ہیں

کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے
کیوں یہ بندھن ٹوٹا ہے
یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میں
یا میرا غم جھوٹا ہے



کس دا دوش سی کس دا نئیں سی
ایہہ گلاں ہن کرن دیاں نئیں
ویلے لنگھ گئے توبہ والے
راتاں ہو کے بھرن دیاں نئیں

جو ہویا ایہہ ہونا ای سی
تے ہونی روکیاں رکدی نئیں
اک واری جدوں شروع ہو جاوے
گل فیر اینویں مکدی نئیں

کجھ انج وی راہواں اوکھیاں سن
کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی
کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن
کجھ مینوں مرن دا شوق وہ سی



ڈوب چلا ہے زہر میں اس کی آنکھوں کا ہر روپ
دیواروں پر پھیل رہی ہے پھیکی پھیکی دھوپ
سنّاٹا ہے شہر میں جیسے ایسی ہے آواز
اک دروازہ کھلے گا جیسے کوئی پرانا راز



آدمی
بھولی باتیں یاد نہ آئیں
کیا کیا کوشش کرتا ہے
کون ہے وہ بس اسی سوچ میں
ساۓ سے بھی ڈرتا ہے
جیسے سکھ کے طوفانوں میں
دکھ کا ریلا پھرتا ہے
ساتھ اپنے جمگھٹا لگا کر
آپ اکیلا پھرتا ہے

گزرگاہ پر تماشا
کھلی سڑک ویران پڑی تھی
بہت عجب تھی شام
اونچا قد اور چال نرالی
نظریں خوں آشام
سارے بدن پر مچا ہوا تھا
رنگوں کا کہرام
لال ہونٹ یوں دہک رہے تھے
جیسے لہو کا جام
ایسا حُسن تھا اس لڑکی میں
ٹھٹھک گئے سب لوگ
کیسے خوش خوش چلے تھے گھر کو
لگ گیا کیسا روگ



حمد
شامِ شہرِ ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو
یاد آ کر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو

آرزو دیتا ہے دل کو موت کی وقتِ دعا
میری ساری خواہشوں کا یہ صلہ دیتا ہے تو

حد سے بڑھ کر سبز ہو جاتا ہے جب رنگِ زمیں
خاک میں اس نقشِ رنگیں کو مِلا دیتا ہے تو

ماند پڑ جاتی ہے جب اشجار پر ہر روشنی
گھپ اندھیرے جنگلوں میں راستا دیتا ہے تو

دیر تک رکھتا ہے تو ارض و سما کو منتظر
پھر انھیں ویرانیوں میں گُل کھلا دیتا ہے تو

تیز کرتا ہے سفر میں موجِ غم کی یورشیں
بجھتے جاتے شعلۂ دل کو ہوا دیتا ہے تو

اے منیرؔ اس رات کے افلاک پر ہونا ترا
اک حقیقت کو فسانہ سا بنا دیتا ہے تو



نواحِ وسعتِ میداں میں حیرانی بہت ہے
دلوں میں اس خرابی سے پریشانی بہت ہے

کہاں سے ہے،کہاں تک ہے،خبر اس کی نہیں ملتی
یہ دنیا اپنے پھیلاو میں انجانی بہت ہے

بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجرِِ یار میں رہنا
بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے

بسر جتنی ہوئی بے کار و بے منزل زمانے میں
مجھے اس زندگانی پر پشیمانی بہت ہے

نکل آتے ہیں رستے خود بخود جب کچھ نہ ہوتا ہو
کہ مشکل میں ہمیں خوابوں کی ارزانی بہت ہے

بہت رونق ہے بازاروں میں،گلیوں اور محلوں میں
پر اس رونق سے شہرِِ دل میں ویرانی بہت ہے



لمحہ لمحہ دم بہ دم
بس فنا ہونے کا غم

ہے خوشی بھی اس جگہ
اے مری خوئے الم

کیا وہاں ہے بھی کوئی
اے رہِ ملک عدم

رونق اصنام سے
خم ہوئے غم کے علم

یہ حقیقت ہے منیر
خواب میں رہتے ہیں ہم

منیر نیازی


زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں تو ہم کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ھم تو کیا




0 comments:

Post a Comment