میں تو مے کش ہوں میرے ہاتھ میں شیشہ ہے عدم
تُو تو مومن ہے ___ترے ہاتھ میں قرآں ہوتا
__ عبدالحمید عدم __
محبت دل کا سجدہ ھے ، جو ھے توحید پر قایٴم
نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ھے
ھم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لئے
آپ کی خوشی حضور، بولئے نہ بولئے
کیا حسین خار تھے جو میری نگاہ نے
سادگی سے بارہا روح میں چبھو لئے
موسمِ بہار ھے، عنبریں خمار ھے
کس کا انتظار ھے، گیسوؤں کو کھولئے
زندگی کا راستہ کاٹنا تو تھا عدمؔ
جاگ اٹھے تو چل دیئے، تھک گئے تو سو لئے
- عبدالحمید عدمؔ
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے
بس ایک داغِ سجدہ مری کائنات
جبینیں تری ، آستانے ترے
بس ایک زخمِ نظارہ، حصہ مرا
بہاریں تری، آشیانے ترے
فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی
ہیں بھر پور جب تک خزانے ترے
فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی
شرابیں تری، بادہ خانے ترے
ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے
بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم
برے یا بھلے، سب زمانے ترے
عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے
لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا
ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر
شیشے کو زیرِ دامنِ رنگیں چھپا کے لا
کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیِ بہار
جا ایک مرتبہ پھر اسے ورغلا کے لا
کہتے ہیں عمرِ رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اُٹھا کے لا
دیکھی نہیں ہے تو نے کہیں زندگی کی لہر
اچھا تو جا عدم کی صراحی اٹھا کے لا
جینے میں یوں تو کون سی جینے کی بات ہے
پھر بھی عجیب چیز، فریبِ حیات ہے
کیا کر گیا ہے آ کے تو اک مرتبہ یہاں
تیرے بغیر گھر میں نہ دن ہے نہ رات ہے
اے دل میں آنے والے! مبارک ترا قدم
ڈرتا ہوں میں، یہ انجمنِ سانحات ہے
مٹ مٹ کے بنتی جاتی ہیں صد رنگ صورتیں
کیا دل فریب سلسلۂ ممکنات ہے
شیشہ تھا، گر کے ٹوٹ گیا اتفاق سے
اے دوست! یہ بھی کیا، کوئی کرنے کی بات ہے
دریا تو تھک بھی جاتے ہیں بہہ بہہ کے اے عدم
دل ہے کہ ماورائے چناب و فرات ہے
چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی
اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے
شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحا
اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے
ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی
رُخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب
اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے
توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدم
تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے
0 comments:
Post a Comment