قتیل شفائی
قفس کا خوف، نشیمن کا احترام نہیں
جنوں کے بعد کسی کو خرد سے کا م نہیں
شکم نے دل کی حقیقت بھی کھول دی آخر
مقامِ رزق سے آگے کوئی مقام نہیں
اگر حیات ہے باقی تو کائنات بھی ہے
ہمی نہ ہوں تو کسی چیز کو دوام نہیں
بجائے بارِ عمل کیوں اُٹھائیں دستِ دُعا
مقابلہ ہے بشر سے، خدا سے کام نہیں
ہمیں بھی دانہ گندم نے کر دیا رُسوا
اگرچہ دہر میں جنت کا اہتمام نہیں
بیکار جو بیٹھا ہے تو کچھ کام ہی کر لے
تو دل پہ کوئی عشق کا الزام ہی دھر لے
آئیں گی ہر اک سمت سے بھنوروں کی صدائیں
اُس زُلف کی مہکار ذرا اور بکھر لے
ہر روز ملا کرتی نہیں حُسن کی دولت
پلکوں سے اُٹھاکر اسے جذبات میں بھر لے
مصروف ہیں اس دور میں جلوے بھی نظر میں
تو اپنے لئے اس کی گلی میں کوئی گھر لے
تھی جس کے حوالے سے تری بزم کی خوشبو
وہ شخص ہے تنہا کبھی اس کی بھی خبر لے
اظہار کے اسلوب قتیل اور بُہت ہیں
جب رو نہ سکے ہجر میں تب شاعری کر لے
بدن کے جام میں کھلتے گُلاب جیسی ہے
سُنا ہے اُس کی جوانی شراب جیسی ہے
کنول کنول ہے سراپا، غزل غزل چہرہ
وہ ہو بہو کِسی شاعر کے خواب جیسی ہے
اندھیرے دور کرے سب کی پارسائی کے
وہ ایک شکل کہ جو ماہتاب جیسی ہے
بغیر جام و سبو، چاند رات کی حالت
کِسی غریب کے عہدِ شباب جیسی ہے
نہ شاعری، نہ محبت، نہ جام، اے واعظ
یہ زندگی بھی تری اک عذاب جیسی ہے
قتیلؔ میں نے کیا پیار اک ستمگر سے
یہ وہ خطا ہے جو کارِ ثواب جیسی ہے
نگاہوں کا اثر کام آرہا ہے
کوئی اُڑتا ہوا جام آرہا ہے
خُدارا اپنے جلوؤں کی خبر لو
مری نیّت پہ الزام آ رہا ہے
پھر آنے کو ہیں دن رُسوائیوں کے
زُباں پر پھر ترا نام آرہا ہے
بہارو سوچ لو انجام اپنا
چمن میں پھر وہ گُلفام آرہا ہے
کسی کی اب تمنا کیوں کریں ہم
تڑپ کر بھی تو آرام آرہا ہے
قتیلؔ اک ریشمی آنچل کا سایا
غموں کی دھوپ میں کام آرہا ہے
گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں
بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم
شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں
خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا
جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں
ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن
آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
جب بھی چاہیں اِک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ
مل بھی لیتے ہیں گلے سے اپنے مطلب کیلئے
آ پڑے مشکل تو نظر یں بھی چُرا لیتے ہیں لوگ
خود فریبی کی انھیں عادت سی شاید پڑ گئی
ہر نئے رہزن کو سینے سے لگا لیتے ہیں لوگ
ہے بجا اِن کی شکایت لیکن اس کا کیا علاج
بجلیاں خود اپنے گلشن پر گرا لیتے ہیں لوگ
ہو خوشی بھی ان کو حاصل یہ ضروری تو نہیں
غم چھپانے کیلئے بھی مسکرا لیتے ہیں لوگ
اس قدر نفرت ہے ان کو تیرگی کے نام سے
روزِ روشن میں بھی اب شمعیں جلا لیتے ہیں لوگ
یہ بھی دیکھا ہے کہ جب آجائے غیرت کا مقام
اپنی سولی اپنے کاندھے پر اُٹھا لیتے ہیں لوگ
روشنی ہے ان کا ایماں، روک مت ان کو‘‘ قتیل’’
دل جلاتے ہیں یہ اپنا ،تیرا کیا لیتے ہیں لوگ
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیئے تلوار نہ مانگو
گِر جاؤگے تم اپنے مسیحا کی نظر سے
مر کر بھی علاجِ دلِ بیمار نہ مانگو
سچ بات پہ ملتا ہے صدا زہر کا پیالہ
جینا ہے تو پھر جراتِ اظہار نہ مانگو
کُھل جائے گا اس طرح نگاہوں کا بھرم بھی
کانٹوں سے کبھی پُھول کی مہکار نہ مانگو
(قتیل شفائی)
وفا کا بوجھ ہے سر پر،
مگر اُس کا یہ کہنا ہے
کہ یہ پتھر پگھل جانے تک
اُس کو زندہ رہنا ہے
وہ پربت کا اِک ایسا پیڑ ہے
جس نے زمستاں میں
بدن کے ڈھانپنے کو
برف کا ملبوس پہنا ہے
وہ اک سایا جو تحفے میں دیا تھا
اُس کو خوابوں نے
وہی اب اُس کا آنچل ہے
وہی اب اُس کا گہنا ہے
لکھا تھا ریت پر
اک دوسرے کا نام کیوں ہم نے
نتیجے میں جو صدمہ ہے
وہ ہم دونوں کو سہنا ہے
ملیں گے سب یہاں جھوٹی خوشی پہنے ہوئے،
ورنہ
قریب آکر جسے دیکھو،
وہ اندر سے برہنہ ہے
قتیلؔ ایسی بھی اک عورت ہے
اس رشتوں کی بستی میںکہ جو ماں ہے نہ بیٹی ہے یہ بیوی ہے نہ بہنا ہے
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایا نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
سرخ آہن پر ٹپکتی بُوند ہے اب ہر خوشی
زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا
کیا ملا آخر تجھے، سایوں کے پیچھے بھاگ کر
اے دلِ ناداں، تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا
اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جو جس میں مخل
زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا
خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم
حال دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا
ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی
پاس اپنے، اور تو کوئی بھی سرمایا نہ تھا
اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاں
اب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا
وہ پیمبر ہو کہ عاشق، قتل گاہ شوق میں
تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا
صرف خوشبو کی کمی تھی موسمِ گل میں قتیلؔ
ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
تہہ میں جو رہ گئے ، وہ صدف بھی نکالئے
طغیانیوں کا ہاتھ سمندر میں ڈالئے
اپنی حدّوں میں رہیے کہ رہ جائے آبرو
اوپر جو دیکھنا ہے تو پگڑی سنبھالئے
خوشبو تو مدتوں کی زمیں دوز ہو چکی
اب صرف پتیوں کو ہوا میں اُچھالیے
صدیوں کا فرق پڑتا ہے لمحوں کے پھیر میں
جو غم ہے آج کا،اُسے کل پر نہ ٹالئے
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پر وفا کا نام
کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اُٹھالیے
کہہ دو صلیبِ شب سے کہ اپنی منائے خیر
ہم نے تو پھر چراغ سروں کے جلا لئے
دنیا کی نفرتیں مجھے قلاش کر گئیں
اِک پیار کی نظر مرے کاسے میں ڈالئے
رسوائیوں کا آپ کو آیا ہے اب خیال؟
ہم نے تو اپنے دوست بھی دشمن بنا لئے
ساحل کے انتظار میں چکرا گیا ہوں میں
مجھ کو مری وفا کے بھنور سے نکالئے
محسوس ہو رہا ہے کچھ ایسا مجھے قتیلؔ
نیندوں نے جیسے آج کی شب پر لگالئے
یه بات پھر مجھے سُورج بتانے آیا ہے
ازل سے میرے تعاقب میں میرا سایا ہے
بلند ہوتی جا رہی ہیں دیواریں
اسیرِدر ہے وہ،جس نے مجھے بُلایا ہے
میں لازوال تھا مِٹ مِٹ کے پھر اُبھرتا رہا
گنوا گنوا کے مجھے زندگی نے پایا ہے
وہ جس کے نین ہیں گہرے سمندروں جیسے
وہ اپنی ذات میں مجھ کو ڈبونے آیا ہے
ہنسا وہ مجھ پہ تو اُس کا کوئی کمال نہیں
اُسے مرے ہی کسی غم نے گُد گُدایا ہے
قطار ہے مرے پیچھے مگر میں کیا دیکھوں
جو سامنے ہے مِرے،وہ نظر کب آیا ہے
ملی ہے اُس کو بھی شہرت قتیل میری طرح
جب اُس نے لبوں پر مجھے سجایا ہے
نئے موسم بڑے بیدرد نکلے
ہرے پیڑوں کے پتے زرد نکلے
دلوں کی برف پہنچی عارضوں تک
یہ انگارے بھی کتنے سرد نکلے
وہ کیا تشخیص کرتے میرے غم کی
معالج خود سراپا درد نکلے
کمی تازہ لہو کی بھی ہو شاید
کئی چہرے تو یوں بھی زرد نکلے
وہ اک عورت کی خاطر لڑ رے ہیں
مِرے احباب پُورے مرد نکلے
بُہت شہرہ تھا جن کی رہبری کا
وہ میرے قافلے کی گرد نکلے
قتیلؔ آزادیاں جن کو نہ بھائیںانہیں قوموں کے ہم بھی فرد نکلے
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا
اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا
انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا
حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا
اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا
کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سُن لے
بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا
قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
قتیل شفائی.
نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے
قتیل میرے سامنے چُرا لیا گیا مجھے
کبھی جو ان کے جشن میں سیاہیاں بکھر گئیں
تو روشنی کے واسطے جلا لیا گیا مجھے
براہِ راست رابطہ نہ مجھ سے تھا قبول انہیں
لکھوا کے خط رقیب سے بلا لیا گیا مجھے
جب ان کی دید کے لیے قطار میں کھڑا تھا میں
قطار سے نہ جانے کیوں ہٹا لیا گیا مجھے
میں روندنے کی چیز تھا کسی کے پاؤں سے مگر
کبھی کبھی تو زلف میں سجا لیا گیا مجھے
سوال تھا وفا ہے کیا جواب تھا کہ زندگی
قتیل پیار سے گلے لگا لیا گیا مجھے
0 comments:
Post a Comment